Quick Login

Author Topic: پکاؤ حلوہ شغلانہ  (Read 45 times)

0 Members and 1 Guest are viewing this topic.

Offline maqsood hasni

  • Full Member
  • ***
  • Posts: 184
  • Rating: +0/-0
پکاؤ حلوہ شغلانہ
« on: January 10, 2019, 08:34:15 PM »

پکاؤ حلوہ
شغلانہ
ایک شخص جنسی اور معاشی کم زوری کے باعث فقیر ہو کر گلیوں اور بازاروں کی گرد وغبار بن گیا۔ زندگی کا یہ چلن اگرچہ درست نہیں‘ لیکن مایوسی اور ناکامی کسی بھی راہ پر ڈال سکتی ہے۔ اس ملک کا رواج تھا کہ جب بادشاہ مر جاتا تو صبح سویرے بڑے بازار کے گیٹ سے گزرنے والا‘ تخت پر بٹھا دیا جاتا۔ بادشاہ کی موت کی خبر پردہ میں رکھی جاتی۔ اس گیٹ پر بڑے ذمہ دار افسر کی مع گارد ڈیوٹی لگا دی جاتی۔ اتفاق دیکھیے‘ اس ملک کا بادشاہ چل بسا اور علی الصبح وہ مسترد شخص‘ سب سے پہلے اس گیٹ سے بازار میں داخل ہوا۔ فورا بادشاہ پروٹوکول کے ساتھ اسے شاہی محل میں لایا گیا۔ جہاں اس کا حلیہ تبدیل کیا گیا۔
اب کہ اس شخص کا حلیاتی اعتبار سے رنگ ڈھنگ ہی کچھ اور تھا۔ تاج پہنایا گیا۔ جوں ہی تاج اس کے سر پر آیا‘ میں اس کے جسم میں دخل ہو گئی۔ محل میں ملکاؤں کے علاوہ خادمائیں بھی تھیں‘ جو اس کے آگے پیچھے ہونے لگیں۔ لمحہ بھر کے لیے وہ بھول گیا کہ جنسی کھیسہ خالی رکھتا ہے۔ حسن کے نشے نے اسے سرشار کر دیا۔ پھر اسے یاد آیا کہ وہ تو جنسی کھیسہ خالی رکھتا ہے۔ جانتا تھا کہ کسی کی لفٹ یا قربت اسے شرم ساری کی دلدل میں دھکیل دے گی۔
وہ سوچنے لگا کہ کیا کرے۔ اس نے محل کے کسی کونے میں دبک کر دن گزار دے گا۔ اسے یہ خیال بھی گزرا کہ اس کی زوجہ ماجدہ آ کر اس کا جنسی پول کھول دے گی۔ بہرطور وہ محل کے ایک گوشے تک محدود ہو گیا۔ محلی عورتیں اسے فارغ جب کہ نوکر چاکر اسے پہنچا ہوا خیال کرنے لگے۔ جب بھی اسے کوئی حکم جاری کرنے کے لیے کہا جاتا تو وہ حکم لگاتا پکاؤ حلوہ‘ حلوہ پک کر آ جاتا۔ اس حلوی بادشاہ سے متعلق خبریں پڑوس کے ملک میں پہنچیں تو وہاں اس ملک پر قبضہ کرنے کی مشاروت ہونے لگی۔
ایک روز انہوں نے سچ مچ میں حملہ کر دیا۔ مشیر وزیر اور فوجی کمانڈر جو اس کے عہد میں عیاشی کے کنویں میں گر گیے تھے‘ بھاگے بھاگے اس کے پاس آئے اور سارا معاملہ اس کے گوش گزار کیا۔ اس نے جوابا حکم لگایا پکاؤ حلوہ۔ پھر خبر آئی کہ وہ شاہی شہر میں داخل ہو گیے ہیں۔ اس نے جوابا وہ ہی کہا کہ پکاؤ حلوہ۔
اچانک خبر آئی کہ دشمن محل سے تھوڑے ہی فاصلے پر ہے۔ یہ سن کر بلا گھبراہٹ اس نے کہا۔ اگر کوئی حلوہ بچا ہے تو لے آؤ۔ دوسرے چمچے سے کہا وہ لباس جو میں نے گیٹ میں داخل ہوتے وقت پہن رکھا تھا لے آؤ۔ وہ بڑی مشکل سے وہ لباس ڈھونڈ لائے اس نے بڑی پھرتی سے وہ لباس پہن لیا اور حلوہ پکڑ کر سب سے کہا بھئی تم جانو اور تمہارا ملک جانے۔ چار دن حلوہ خدا نے نصیب میں کر دیا تھا سو کھا لیا۔ اب روز روز کا حلوہ نصیب میں نہیں رہا‘ کیا کیا جا سکتا ہے‘ یہ کہہ کر وہ دربار سے باہر نکل گیا۔
[/b][/size]